بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے پیسے بطور قرض لینے کا حکم

سوال

 مسجد کے پیسوں سے قرض لیناجائزہے؟

جواب

مسجد کا فنڈ (پیسے) کمیٹی یا متولی و خزانچی کے پاس امانت ہوتا ہے، اس لیے مسجد کا متولی مسجد  کی رقم صرف مسجد کے اخراجات اور مصالح میں لگانے کا پابند ہے، مسجد کا موقوفہ مال کسی کو بطورِ قرض دینے یا کمیٹی کے افراد کے لیے خود لینے کی اجازت نہیں ہے، البتہ مسجد کے امام، مؤذن، خادم وغیرہ جو مسجد کے مصالح اورخدمت میں مصروف ہوں ان کو ضرورت کی وجہ سے  ضابطے کے مطابق پیشگی اجرت بطور قرض دینا جائز ہے، بشرطیکہ رقم اتنی خطیر نہ ہو جس کی وصولیابی تنخواہ سے مشکل یا ناممکن ہو۔ 

الفتاوى الهندية (4/ 338):

"الوديعة لاتودع ولاتعار ولاتؤاجر و لاترهن، وإن فعل شيئًا منها ضمن، كذا في البحر الرائق."

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

’’مسجد کا پیسہ متولی کے پاس امانت ہوتا ہے، اس میں اور کسی قسم کا تصرف کرنا روزگار وغیرہ میں لگانا جائز نہیں ۔‘‘

’’مسجد کی رقم متولی کے پاس امانت ہے، کسی کو بیوپار کے  لیے دینے کا اس کو حق نہیں۔‘‘

(باب احکام المساجد، ج:۱۵، ص:۸۰)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210201051
تاریخ02-06-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں