بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں پنجوں کے بل کھڑا ہونا

سوال

پنجوں کے بل کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

نماز میں قیام کی حالت میں  مکمل قدم پر کھڑا ہونا اور  انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف کرنا مسنون ہے، کسی شرعی عذر کے بغیر پنجوں کے بل کھڑا ہونا  خلافِ  سنت و مکروہ  طریقہ ہے،  لہذا پورے قدم پر کھڑے ہونے کا معمول بنایا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200880
تاریخ31-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں