خلع ہوجانے کا علم نہ ہونے کی صورت میں عدت کا حکم
سوال
ایک عورت اپنی امی کے گھر چار سال سے بیٹھی ہے، اس کا اپنے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں تو انہوں نے کورٹ کی ذریعے خلع لی کورٹ نے اس کی شوہر کو پیپر بھیجے، اس نےسائن کر دیے کورٹ نے بتایا نہیں، ڈیڑھ سال بعد دوبارہ کورٹ گئے، دو بارہ پیپر بھیجے اس نے سائن کر دیے، پھر بتایاکہ شوہر نے ڈیڑھ سال پہلے ہی طلاق دے دی ۔اب وہ عدت میں بیٹھی گی؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا کورٹ کی جانب سے بھیجے گئے پہلے خلع نامہ پر شوہر نے دستخط کردیے تھے تو دستخط کے ساتھ ہی مذکورہ خاتون پر طلاقِ بائن واقع ہوگئی تھی، اور اس وقت ہی عدت شروع ہوگئی تھی، اگرچہ اسے اس بات کا علم نہ ہو، لہذا ڈیرھ سال بعد علم ہونے کی صورت میں اب عدت واجب نہیں۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

