بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

احتراماً سر جھکا کر ملنے کا حکم

سوال

کسی سے احترامًا سر جھکا کر ملنا کیسا ہے؟

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  سلام کرتے وقت کسی انسان کے سامنے جھکنے سے منع فرمایا ہےخواہ وہ جھکنا احتراماً ہو یا تواضعاً، لہذا کسی سے جھک کر ملنا جائز نہیں ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7 / 2965):

"(وعن أنس - رضي الله عنه - قال: قال رجل: يا رسول الله! الرجل منا) أي: من المسلمين، أو من العرب (يلقى أخاه) أي: المسلم أو أحدًا من قومه، فإنه يقال له: أخو العرب (أو صديقه) أي: حبيبه وهو أخص مما قبله (أينحني له؟): من الانحناء، وهو إمالة الرأس والظهر تواضعًا وخدمةً (قال: لا) أي: فإنه في معنى الركوع، وهو كالسجود من عبادة الله سبحانه".

فتاوی محمودیہ میں ہے :

’’جھک کر سلام کرنا منع ہے‘‘۔ (۲۴ / ۳۳۱)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200842
تاریخ30-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں