بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حیض یا نفاس کی حالت میں بیوی کے جسم سے لطف اندوز ہونا

سوال

حیض یا نفاس کی حالت میں اپنے نفس کو بیوی کے جسم سے رگڑ کر انزال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

حالتِ  حیض میں بیوی کی ناف سے لے کر اس کے گھٹنوں تک کے حصہ کے علاوہ باقی تمام جسم سے استمتاع جائز ہے، لہٰذا اگر اس حالت میں شوہر بیوی کے جسم سے تسکینِ شہوت کی تدبیر کرتا ہے تو  اس کی گنجائش ہے۔

ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے حصے پر اگر موٹا کپڑا ہو، جس سے جسم کی حرارت محسوس نہ ہو تو رانوں کے درمیان تسکینِ شہوت کی بھی اجازت ہوگی، تاہم جن لوگوں کو خود پر اعتماد نہ ہو، انہیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے، خدانخواستہ اگر اس دوران دخول کردیا یا ناف سے لے کر گھٹنوں کے درمیانی حصے سے کسی حائل کے بغیر استفادہ کیا تو یہ گناہ اور حرام ہوگا، اس پر سچے دل سے توبہ کے ساتھ ساتھ حسبِ توفیق صدقہ کرنا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 290):

"(قوله: يمنع) أي الحيض وكذا النفاس، خزائن".

 فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200838
تاریخ30-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں