بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی زندگی میں فوت شدہ بیٹی کا والد کی میراث میں حصہ

سوال

والد کی زندگی میں شادی شدہ بیٹی کا انتقال ہو گیا تو  کیا والد کی وفات کے بعد وراثت میں اس بیٹی کا حصہ ہو گا؟ جب کہ باقی اور بہن بھائی بھی ہیں۔

جواب

جس بیٹی کا انتقال والد کی زندگی میں ہوگیا، والد  کی وفات کے بعد اس کا میراث میں حصہ نہیں ہوگا، نیز دیگر بھائی بہنوں کی موجودگی میں   اس کی اولاد کا  بھی میراث میں شرعًا حصہ نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 758):

’’وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200811
تاریخ30-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں