بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنابت کی حالت میں حیض آنے کی صورت میں غسل کا حکم

سوال

عورت حالت جنابت میں ہو اور حیض آ جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب

جنابت کی حالت میں کسی عورت کو ماہواری آجائے تو اس پر غسلِ جنابت فرض نہیں رہتا اس لیے کہ غسلِ جنابت تو پاکی کے لیے ہوا کرتا ہے اور جب تک وہ عورت ایامِ حیض میں ہے تو پاکی کا تصور ہی نہیں ہوسکتا، لہذا  ایامِ حیض میں عورت  غسلِ طہارت نہیں کرے گی، ایام ختم ہونے پر غسل کرنا پڑے گا، اس لیے ایسی صورت میں ایامِ حیض میں غسلِ جنابت واجب نہیں، البتہ اگر کوئی عورت ماہواری کے ایام میں ویسے ہی غسل کرنا چاہے تو شرعی اعتبار سے اس میں بھی کوئی حرج نہیں، لیکن یہ غسل غسلِ طہارت نہیں کہلائے گا۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (1/ 87):

’’ المرأة إذا أجنبت ثم أدركها الحيض أو الحائض إذا أجنبت ثم طهرت حتى وجب عليها الاغتسال، فهذا الاغتسال يكون من الجنابة أو الحيض؟ حكي عن الشيخ الإمام الزاهد أبي محمد عبد الرحيم بن محمد الكرميني رحمه الله أنه كان يقول: اختلفت عبارات أصحابنا رحمهم الله: وظاهر الجواب أن الاغتسال يكون منهما جميعاً‘‘.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200769
تاریخ29-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں