بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کے معنی

سوال

نماز کے معنی کیا ہیں؟

جواب

" نماز "   فارسی  زبان  کا  لفظ  ہے  ، اور   بطورِ  اسم  مستعمل  ہے،  اس  کے  معنی  بندگی، پرستش ، عاجزی  اور  انکساری  کے  ہیں۔   (فیروزاللغات1377،فیروزسنز)

اصطلاح  میں  نماز  اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی کرنے کا ایک خاص طریقہ ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں دیا اور رسول اللہ  ﷺ نے احادیثِ مبارکہ میں اپنی امت کو سکھایاہے۔

عربی زبان میں "صلاۃ"  کے متبادل فارسی اور اردو میں "نماز" کا لفظ استعمال ہوتاہے، جو "صلاۃ" ہی کے معنی میں ہے، اور اصطلاح مقرر ہوجانے کے بعد "صلاۃ" کے لیے "نماز" کا استعمال بغیرکراہت اور  تردد کے جائزہے، بعض منکرینِ حدیث نے اپنی جہالت، بلکہ عبادات سے دست کش ہونے کے لیے یہ بات مشہور کی کہ "نماز" عجمی فارسیوں کا طریقہ پرستش ہے، اور عجمی سازش کے تحت "صلاۃ" کا ترجمہ "نماز" سے کردیا گیا ہے، ان کی یہ بات غلط ہے، اس کا تفصیلی جواب مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ نے "فتنہ انکارِ حدیث" میں دیا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200753
تاریخ29-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں