بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فبای آلاء ربکما تکذبان کی ترکیب

سوال

فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان کی نحوی ترکیب  کیا ہے؟

جواب

فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان

(ف ) جزائیہ، ( ب) حرف  جر،  ( أي) مضاف، (الاء) مضاف الیہ اور  ( ربکما) کے لئے مضاف، (رب) مضاف الیہ  اور( کما )ضمیر خطاب کے لئے مضاف، (أي) مضاف اپنے تمام مضاف الیہ سے مل  کر   (ب) جارہ  کے  لئے  مجرور،  جار  اپنے  مجرور  سے  مل  کر     (تكذبان)  فعل  سے  متعلق،  فعل  و  فاعل اپنے  متعلق سے مل کر  جملہ فعلیہ  خبریہ  ہو کر  شرط  مقدر  کے  ليے  جواب ِ شرط، شرط مقدر  اپنیے جواب شرط سے مل کر جملہ شرطیہ جزائیہ ۔

اعراب القرآن الکریم میں ہے:

الإعراب {فَبِأَيِّ}: (الفاء): رابطة لجواب شرط مقدر. (بأي): جار ومجرور متعلق ب‍تكذبان. {آلاءِ}: مضاف إليه مجرور. {رَبِّكُما}: مضاف إليه مجرور، و (الكاف): مضاف إليه. {تُكَذِّبانِ}: فعل مضارع مرفوع بثبوت النون، و (الألف): فاعل. وجملة: (بأي آلاء ربكما تكذبان … ) جواب شرط مقدر، أي: إن كان الأمر كما فصل فبأي … في محل جزم."

(اعراب القرآن الكريم، ج:4، ص:2359، ط: دار الصحابة لتراث)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200739
تاریخ28-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں