بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہنیہ اور عذاء نام

سوال

"ہنیہ"  نام بیٹی کا رکھ سکتے  ہیں اور "عذاء"  نام؟

جواب

"هُنَیَّه"  (ہاء پر پیش، نون پر زبر اور یاء پر تشدید کے ساتھ) عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا معنیٰ تھوڑی سی چیز اور تھوڑا سا وقت ہے، یہ نام رکھ سکتے  ہیں۔

باقی اگر " ہنیہ" (ہاء پر زبر اور نون ساکن کے ساتھ ہو تو  اس تلفظ کے ساتھ) نام کتبِ لغت  میں تلاش کے باوجود نہیں  مل سکا۔

’’عذاء‘‘   (ذال کے ساتھ) کا معنیٰ ہے:سر سبز زمین۔  یہ نام رکھ سکتے ہیں۔

’’عزاء‘‘   (زاء کے ساتھ) کا معنی ہے"مصیبت پر صبر کرنا،دوسرے کی طرف اپنی نسبت کرنا" ، اس لیےبچی کایہ  نام رکھنا مناسب نہیں، بچوں پر نام کے معنی کے اثرات  پڑتے ہیں، لہذابہتر ہے کہ صحابیات کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کرلیا جائے۔

المقصور والممدود لأبي علي القالي (ص: 319):

"عذاء: قال الأصمعى: مكان عذٍ وأرض عذية, ويقال أرض عذاة, ويقال ما بهذا المكان من العذاء والطيب, ممدود."

القاموس المحيط (ص: 1735):

"و في الحَدِيثِ : هُنَيَّةً مُصَغَّرَةُ هَنَةٍ أصْلُها : هَنْوَةٌ أي : شيءٌ يَسيرٌ."

النهاية في غريب الأثر (5/ 651، بترقيم الشاملة آليا):

"( س ) وفيه [ أنه أقام هُنَيَّةً ] أي قليلا من الزَّمان وهو تَصْغِير هَنَةٍ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200705
تاریخ28-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں