بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مغرب کی ایک رکعت پانے والا دوسری اور تیسری دنوں رکعت میں قعدہ کرے گا یا صرف قعدہ آخرہ میں؟

سوال

 اگر مسبوق مغرب کی نماز کے قعدہ اولیٰ میں شامل ہو تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کیا وہ اپنی پہلی رکعت کے آخر میں اور پھر اپنی دوسری(اصل میں تیسری) اور آخری رکعت میں بھی قعدہ کرے گا یا صرف قعدہ اخیرہ ہی کرے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں پہلے قعدے میں شریک ہونے والا مقتدی امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ دونوں رکعتوں میں قعدہ کرے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

”(ومنها) أنه يقضي أول صلاته في حق القراءة وآخرها في حق التشهد حتى لو أدرك ركعة من المغرب قضى ركعتين وفصل بقعدة فيكون بثلاث قعدات وقرأ في كل فاتحة وسورة ولو ترك القراءة في إحداهما تفسد.“

(الباب السابع في المسبوق، ج:1، ص:91، ط: دارالفکر)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200650
تاریخ27-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں