بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کان میں عورتیں کتنے چھید کرواسکتی ہیں؟

سوال

کان میں عورتیں کتنے چھید کروا سکتی ہیں؟

جواب

کان میں ایک چھید کروانا یا ایک سے زائد کروانا یا بالکل بھی نہ کروانا یہ تمام صورتیں جائز ہیں۔البتہ اس میں یہ ضروری ہے کہ غیر مسلموں کے کسی طریقے کی نقل میں نہ کیا جائے اور عورت زینت اختیار کرتے ہوئے اپنے شوہر کو دکھانے کی نیت کرے ۔اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کرے ۔مرقاة المفاتیح میں ہے: 

  ”وعنہ (أي: عن ابن عمر رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہما) قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ“ أي: مَنْ شَبَّہَ نَفْسَہ بِالْکُفَّارِ، مثلاً: فِي اللِّبَاسِ وَغَیْرِہ، أو بِالْفُسَّاقِ أوْ بِالْفُجَّارِ، أوْ بِأہْلِ التَّصَوُّفِ وَالصُّلَحَاءِ الأبْرَارِ․ ”فَہُو مِنْہُمْ“، أي: في الاثْمِ وَالْخَیْرِ“․

(مرقاة المفاتیح، کتاب اللباس، الفصل الثاني، رقم الحدیث: ۴۳۴۷، ۸/۱۵۵، رشیدیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200649
تاریخ27-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں