بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کافی کے بیچوں کے ساتھ کیڑوں کے پیسے جانے کی صورت میں کافی پینے کا حکم

سوال

بعض لوگ کہتے ہیں کہ کوفی میں کیڑے ہوجاتے ہیں اور کمپنیاں ان کیڑوں کو صاف کیے بغیر کوفی کو ان کیڑوں کے ساتھ پیس دیتی ہیں، اب کیا کوفی پینا حلال ہے یا حرام؟

جواب

اگر کسی قسم کی کافی کے بارے میں تحقیق سے یہ بات ثابت ہوجائے کہ اس کافی کی کمپنی کافی کے بیجوں سے کیڑے صاف کیے بغیر کیڑوں سمیت کافی کے بیج کیڑوں کے ساتھ ہی پیس دیتی ہے تو اس خاص کمپنی کی کافی پینا جائز نہیں ہوگا، البتہ جب تک یقینی طور پر تحقیق سے یہ بات ثابت نہ ہوجائے اس وقت تک کافی پینے کا ناجائز نہیں کہا جاسکتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 304):

’’(ولا يحل) (ذو ناب يصيد بنابه) فخرج نحو البعير (أو مخلب يصيد بمخلبه) أي ظفره فخرج نحو الحمامة (من سبع) بيان لذي ناب. والسبع: كل مختطف منتهب جارح قاتل عادة (أو طير) بيان لذي مخلب (ولا) (الحشرات) هي صغار دواب الأرض واحدها حشرة. 

(قوله: واحدها حشرة) بالتحريك فيهما: كالفأرة والوزغة وسام أبرص والقنفذ والحية والضفدع والزنبور والبرغوث والقمل والذباب والبعوض والقراد، وما قيل: إن الحشرات هوام الأرض كاليربوع وغيره، ففيه أن الهامة ما تقتل من ذوات السم كالعقارب قهستاني.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200581
تاریخ26-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں