بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم (ہندو، سکھ، عیسائی وغیرہ) کو صدقہ و خیرات دینے کا حکم

سوال

 ہندو، سکھ یا  عیسائی وغیرہ کو خیرات دینا کیسا ہے ؟

جواب

غیر مسلم (ہندو، سکھ، عیسائی وغیرہ)  اگر ضرورت مند ہو تو بھی اس کو  زکات یا واجب صدقات (مثلًا صدقہ فطر اور نذر وغیرہ) دینا  جائز نہیں ہے، اس لیے  کہ زکات کی ادائیگی کے لیے مسلمان مستحق کو مالک بنانا ضروری ہے،  البتہ  نفلی صدقات، خیرات اور عطیہ  سے غیر مسلم کی مدد  کی جاسکتی ہے۔

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"عن إبراهیم بن مهاجر قال: سألت إبراهیم عن الصدقة علی غیر أهل الإسلام، فقال: أما الزکاة فلا، وأما إن شاء رجل أن یتصدق فلا بأس." 

(المصنف لابن أبي شیبة / ما قالوا في الصدقة یعطي منها أهل الذمة۶؍۵۱۳ رقم:۱۰۴۱۰)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200565
تاریخ26-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں