بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جماعت کی نماز چھوڑ کر جنازے میں شرکت

سوال

 فرض نماز کی جماعت کی نماز چھوڑ کر جنازے کی نماز میں شریک ہونا کیسا  ہے؟

جواب

فرض نماز کی جماعت چھوڑ کر جنازے میں شریک ہونا مناسب نہیں، فرض نماز کی جماعت کو مقدم کرنا چاہیے؛  اس  لیے کہ نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے اور   جب ایک جماعت اسے ادا کر رہی ہے تو کسی ایک کے شریک نہ ہونے سے اس عبادت (نمازِ جنازہ) میں کوئی کراہت نہیں آئے گی اور  نہ  ہی شریک نہ ہونے والے کو  ملامت کی جائے گی، البتہ جماعت کی نماز چھوڑنا سنتِ موکدہ  (قریب الی الواجب) کو چھوڑنے کی وجہ سے قابلِ ملامت ہے۔

البحر المحيط في أصول الفقه (1 / 321):

"قال الغزالي في تعريفه: كل مهم ديني يراد حصوله و لايقصد به عين من يتولاه. فخرج بالقيد الأخير فرض العين، ومعنى هذا أن المقصود من فرض الكفاية وقوع الفعل من غير نظر إلى فاعله، بخلاف فرض العين فإن المقصود منه الفاعل، وجعله بطريق الأصالة، لكن الحق: أن فرض الكفاية لا ينقطع النظر عن فاعله بدليل الثواب والعقاب. نعم ليس الفاعل فيه مقصودا بالذات بل بالعرض، إذ لا بد لكل فعل من فاعل، والقصد بالذات وقوع الفعل."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200518
تاریخ26-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں