بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تلاوت کے دوران نبی کریم ﷺ کا نام سننے پر درود کا حکم

سوال

قرآن کی تلاوت کرتے وقت نبی عليه السلام کا نام سنائی دے تو کیا دُرود پڑھنا ضروری ہے ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں قرآن کی تلاوت کے دوران درود پڑھنا واجب نہیں ہے۔ تاہم  نماز سے باہر تلاوت کر رہاہو تو بہتر ہے کہ  تلاوت سے فارغ ہوکر درود پڑھ لے اور اگر تلاوت روک کر درود پڑھ لیا تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 519):

وفي كراهية الفتاوى الهندية: ولو سمع اسم النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقرأ لايجب أن يصلي، وإن فعل ذلك بعد فراغه من القرآن فهو حسن، كذا في الينابيع، ولو قرأ القرآن فمر على اسم نبي فقراءة القرآن على تأليفه ونظمه أفضل من الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك الوقت، فإن فرغ ففعل فهو أفضل وإلا فلا شيء عليه كذا في الملتقط. اهـ"

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200508
تاریخ25-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں