بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناچنے کا حکم

سوال

مسلمان کا ناچنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

ناچنے کی مروجہ کیفیت جس میں تھرکنے اور لچکنے کی کیفیت پائی جاتی ہے اور یہ مخنث لوگوں کے طریقہ سے مماثلت رکھتا ہے، اس سے حیا اور مروت بھی ختم ہوجاتی ہے، یہ مرد اور عورت دونوں کے لیے  ناجائز  ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 259):

"ومن يستحل الرقص قالوا بكفره ... ولا سيما بالدف يلهو ويزمر.

 (قوله: ومن يستحل الرقص قالوا بكفره) المراد به التمايل والخفض والرفع بحركات موزونة كما يفعله بعض من ينتسب إلى التصوف.

وقد نقل في البزازية عن القرطبي: إجماع الأئمة على حرمة هذا الغناء وضرب القضيب والرقص. قال: ورأيت فتوى شيخ الإسلام جلال الملة والدين الكرماني: أن مستحل هذا الرقص كافر، وتمامه في شرح الوهبانية. ونقل في نور العين عن التمهيد: أنه فاسق لا كافر".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144210200474
تاریخ25-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں