بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فضیلت حاصل کرنے کے لیے ہر مہینے ایامِ بیض کے ہی تین روزے مسلسل رکھنا ضروری نہیں

سوال

ایام بیض کے روزے تین اکٹھے رکھنا شرط هے یا مہینے میں کسی بھی دن الگ الگ رکھنے سے فضیلت حاصل هو جائے گی؟

جواب

قمری مہینے کے کسی بھی حصے (اول، درمیان، آخر یا متفرق) میں تین روزے رکھ لینے سے حدیث شریف کے مطابق یہ فضیلت حاصل ہوجاتی ہے کہ جس شخص کا معمول (علاوہ رمضان المبارک کے ) ہر مہینے  تین روزے  رکھنے کا ہو، گویا اس نے ساری زندگی روزے رکھے۔ البتہ "ایامِ بیض" عرفی اعتبار سے قمری مہینے کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو کہتے ہیں، لیکن احادیثِ مبارکہ میں مذکورہ فضیلت ایامِ بیض کے ساتھ مقید نہیں ہے، اور رسول اللہ ﷺ کا اپنا معمول بھی مختلف تھا، آپ ﷺ کبھی مہینے کی ابتدا اور درمیان اور انتہا میں بھی روزے رکھتے تھے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200470
تاریخ25-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں