بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں عورت کی آواز والی موبائل ٹون بجنا

سوال

موبائل کی ٹون میں اگر عورت کی آواز ہوتو  نماز میں کوئی  مسئلہ ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں نماز کے دوران موبائل ٹون بج جائے اور موبائل ٹون عورت کی آواز والی ہو تو نماز تو ہوجائے گی،  تاہم عورت کی آواز والی ٹون رکھنا درست نہیں ہے؛  لہذا ایسی ٹون بدل دی جائے۔ نیز  نماز   سے پہلے ہی موبائل سائلنٹ پر  کرنے کا اہتمام کیا جائے، اور اگر پہلے بھول جائے تو نماز کے دوران بیل بجتے ہی عملِ قلیل کے ذریعے اس کی ٹون بند کردی جائے؛ تاکہ نماز میں خلل واقع نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200466
تاریخ25-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں