بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ کی رقم چیک کی صورت میں دینے کا حکم

سوال

زکوۃ کی رقم چیک کی صورت میں دینے سے زکوٰة ادا کر نا کیسا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ زکوۃ کی رقم چیک کی صورت میں دینا جائز ہے، تاہم چیک کی صورت میں زکوۃ  کی رقم دینے سے زکوۃ تب ادا ہوگی جب مذکورہ رقم مستحقِّ زکوۃ شخص کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجائے یا مستحقِ زکوۃ شخص مذکورہ چیک بینک سے کیش کراکے پیسے وصول کرلے،  اکاؤنٹ میں رقم آجانے سے پہلے ادا  نہ ہوگی۔

فتاوی عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه نحو الأب والوصي يقبضان للصبي والمجنون كذا في الخلاصة. أو من كان في عياله من الأقارب أو الأجانب الذين يعولونه والملتقط يقبض للقيط."

(کتاب الزکوۃ، الباب السابع فی المصارف، ج:1، ص:190، ط:مکتبہ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200448
تاریخ25-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں