بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبر میں عہد نامہ رکھنا

سوال

قبر میں "عہد نامہ"  رکھنا کیسا ہے ؟

جواب

قبر  میں میت  کے  ساتھ  عہد  نامہ  رکھنے  کی شریعت میں کوئی اصل نہیں اور  اس میں اس کے نجاست کے ملوث ہونے کا خطرہ بھی ہے  اور  اگر اس  میں مبارک کلمات یا آیات قرآنی ہوں تو اس کی بے ادبی ہے؛  اس لیے یہ جائز نہیں ہے۔

آپ کے مسائل اور ان کاحل (4/505)  میں ہے:

"قبر میں قرآن رکھنا بے ادبی ہے:

س… کیا میّت کے ساتھ قبر میں قرآن مجید یا قرآن مجید کا بعض حصہ یا کوئی دُعا یا کلمہ طیبہ رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث، فقہِ حنفی اور سلف صالحین کے تعامل کی روشنی میں تفصیل سے وضاحت فرمائیں، مہربانی ہوگی۔

ج… قبر میں مردے کے ساتھ قرآن مجید یا اس کا کچھ حصہ دفن کرنا ناجائز ہے، کیوں کہ مردہ قبر میں پھول پھٹ جاتا ہے، قرآن مجید ایسی جگہ رکھنا بے ادبی ہے۔ یہی حکم مقدس کلمات کا ہے، سلفِ  صالحین کے یہاں اس کا تعامل نہیں تھا۔“

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 246):

"كتب على جبهة الميت أو عمامته أو كفنه عهد نامه يرجى أن يغفر الله للميت ... و قد أفتى ابن الصلاح بأنه لايجوز أن يكتب على الكفن يس و الكهف و نحوهما خوفًا من صديد الميت ... و نحوه مما فيه إهانة فالمنع هنا بالأولى ما لم يثبت عن المجتهد أو ينقل فيه حديث ثابت، فتأمل."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200428
تاریخ25-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں