بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قضا نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنا

سوال

 اگر ایک مقیم شخص کی نماز فوت ہو جائے  تو جب وہ اس کو ادا کرے تو کیااس کے  لیے اذان اور اقامت ضروری ہے ؟

جواب

قضا  نماز کی ادائیگی کے وقت  بھی اذان و اقامت  کہنا مسنون ہے ،  چاہے باجماعت پڑھی جائے یا اکیلے پڑھی جائے،اگر کسی نے بغیر اذان و اقامت کے قضا نماز پڑھ لی تو  بھی نماز ہوجائے گی ۔

وفي الفتاوى الهندية :

"ومن فاتته صلاة في وقتها فقضاها أذن لها وأقام واحدًا كان أو جماعةً، هكذا في المحيط.(1 / 55ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200410
تاریخ24-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں