بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مردوں کے لیے مہندی لگانا

سوال

مردوں  کے  لیے  عام  حالات  میں  مہندی  لگانا  حلال  ہے  یا حرام؟

جواب

عام  حالات  میں مردوں کے لیے (سر اور داڑھی کے علاوہ دیگر اعضاء پر) بغیر  عذرکے مہندی لگاناعورتوں کے  ساتھ  مشابہت کی وجہ سے مکروہ ہے، بطورِخضاب سراورداڑھی پر مہندی لگانا درست  ہے، نیز سر اور داڑھی کے بال سفید ہوجانے کی صورت میں سیاہ رنگ کے علاوہ مہندی کا خضاب لگانے کو فقہاءِ کرام  نے  مستحب لکھا  ہے، سیاہ رنگ سے احتراز لازم ہے،  اور علاج کی غرض سے اعضاء پر لگانے کی گنجائش ہے۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار (6 / 422):

"يستحب للرجل خضاب شعره ولحيته ولو في غير حرب في الأصح، والأصح أنه عليه الصلاة والسلام لم يفعله ويكره بالسواد، وقيل: لا".

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (6 / 422):

"(قوله: خضاب شعره ولحيته ) لا يديه ورجليه؛ فإنه مكروه للتشبه بالنساء ، (قوله: والأصح أنه عليه الصلاة والسلام لم يفعله )؛ لأنه لم يحتج إليه؛ لأنه توفي ولم يبلغ شيبه عشرين شعرةً في رأسه ولحيته بل كان سبع عشرة، كما في البخاري وغيره،  وورد أن أبا بكر رضي الله عنه خضب بالحناء والكتم، مدني".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200329
تاریخ24-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں