بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرسی کے سامنے لگے ٹیبل پر ماتھا لگانا

سوال

جو لوگ کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں، کیا سجدہ کرتے وقت وہ سامنے رکھے ٹیبل یا ڈیسک پر اپنا ماتھا ٹکا سکتے ہیں یا ماتھا ٹکانے میں کوئی ممانعت  ہے؟

جواب

جو شخص کسی عذرِ شرعی کی وجہ سے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھے  تو اس کے لیے رکوع اور سجدہ کا اشارہ کافی ہے،سجدہ میں رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھکے، سامنے لگے  تخت پر سجدہ کرنا ،ماتھا لگانالازم نہیں، تاہم اگر تخت پر سجدہ کرلے تب بھی سجدہ ادا ہوجائے گا، بشرط یہ کہ سامنے کی  میز اونچائی میں کرسی کے  برابر  ہو (یعنی بیٹھنے کی جگہ کے برابر ہو، تاکہ سجدے میں مکمل جھکنا پایا جائے)،  اگر کرسی سے اونچی ہو تو ایک یا دو اینٹ سے زیادہ اونچی نہ ہو۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار (2/ 99):

’’إن كان الموضوع مما يصح السجود عليه كحجر مثلاً، و لم يزد ارتفاعه على قدر لبنة أو لبنتين فهو سجود حقيقي، فيكون راكعاً ساجداً لا مومئاً حتى أنه يصح اقتداء القائم به‘‘.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200304
تاریخ23-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں