بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد، بیوہ، دو بیٹوں اور تین بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم

سوال

اگر ایک شخص ڈیڑھ کروڑ کا مالک ہے تو یہ رقم اس کی ایک  بیوی ،دو بیٹوں اور تین بیٹیوں اور باپ میں کس طرح تقسیم کی جائے گی؟ واضح رہے کہ موجودہ بیوی کی کوئی  اولاد نہیں ،اولاد دوسری عورت سے ہے جسے اس نے اپنی زندگی میں طلاق دے دی تھی۔

جواب

بصورتِ مسئولہ  اگر مذکورہ شخص کا انتقال ہوچکا ہے  اور  ا س کے ورثاء  میں والد، ایک بیوہ، دوبیٹے اور تین بیٹیاں ہیں تو  مرحوم کے حقوقِ متقدمہ ادا کرنے کے بعد وراثت کی تقسیم مندرجہ ذیل طریقے سے ہوگی:

مذکورہ شخص کے کل ترکہ کو 168 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے 

والد کو :28 حصے 

بیوہ کو :21 حصے

ہر ایک بیٹے کو :34 حصے اور 

ہر ایک بیٹی کو 17 حصے دیئے جائیں گے۔

اگر ترکے کی رقم ڈیڑھ کروڑ روپے ہے تو اس رقم میں سے مرحوم کے والد کو 2500000(پچیس لاکھ روپے)،بیوہ کو 1875000(اٹھارہ لاکھ پچھتر ہزار روپے)،ہر ایک بیٹے کو 3035714.28(تیس لاکھ ،پینتیس ہزار سات سو چودہ روپے)،اور ہر ایک بیٹی کو 1517875.14(پندرہ لاکھ ،سترہ ہزار ،آٹھ سوپچھترروپے)ملیں گے۔

واضح رہے کہ جس عورت کو مرحوم زندگی میں طلاق دے چکے ہیں وہ مرحوم کی وراثت میں حصہ دار نہیں ہوگی، موجودہ بیوی کو مرحوم کے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ملے گا، جس کی تفصیل اوپر ذکر کی جاچکی ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200296
تاریخ23-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں