بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

افطار کے وقت اجتماعی دعا کا حکم

سوال

کیا افطار کے وقت اجتماعی دعا مانگنا بدعت ہے؟

جواب

افطار کے وقت دعا میں اصل یہ ہے کہ اکیلے اپنے لیے دعا مانگی جائے،  کیوں کہ یہ خدا اور بندے کے درمیان راز و  نیاز اور سرگوشی کے درجے میں ہے،  رسول اللہ ﷺ  اور  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عام معمول  (افطار کے علاوہ بھی) انفرادی دعا کا تھا، خاص خاص مواقع پر اجتماعی دعا کی جاتی تھی، لہذا اگر افطار سے پہلے معمول بنائے اور لازم سمجھے بغیر کبھی کبھار اجتماعی دعا کرلی جائے تو اس کی گنجائش ہے، اس کو بدعت نہیں کہا جائے گا،  لیکن اس کو روزانہ کا معمول نہ بنایا جائے ،نہ ہی اس پر اصرار کیا جائے اور نہ ہی ضروری سمجھا جائے۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200239
تاریخ23-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں