بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شراب اور تاڑی کے کاروبار کا پیسہ مسجد میں دینا

سوال

شراب اور تاڑی کو بیچ کر پیسہ کما کر اس پیسہ کو مسجد میں دینا کیسا ہے؟

جواب

شراب اور نشہ آور تاڑی کا بیچنا حرام ہے، اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے، اس کاروبار  کو چھوڑ کر اس پر توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، اس سے حاصل ہونے والی رقم کو مسجد میں لگانا جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 658):

"(قوله: لو بماله الحلال) قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك مالاً خبيثاً ومالاً سببه الخبيث والطيب فيكره ؛ لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لايقبله. اهـ. شرنبلالية."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200161
تاریخ22-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں