بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا زائد بالوں کے لیے بلیڈ استعمال کرنا

سوال

کیا عورت زیر ناف کے بال بلیڈ(blade) سے صاف کر سکتی ہے؟

جواب

عورت کے لیے زیرِ ناف بالوں کا اکھاڑنا  مسنون ہے،؛ لیکن اگر عورت کو زیر ناف اور بغل کے بال کھاڑنے میں تکلیف ہو، تو اس کے لیے بلیڈ یا استرہ استعمال کرنے سے بہتر کریم، پاوٴڈر وغیرہ سے بال صاف کرنا ہے۔اور بلیڈ کا استعمال بھی جائز ہے۔البتہ نفسِ سنت مطلقاً بال صاف کرنے سے حاصل ہوجائے گی، چاہے کسی بھی طرح بال صاف کیے جائیں۔

قال الطحطاوي:

"والسنة في حلق العانة أن یکون بالموسی؛ لأنه یقوي، وأصل السنة یتأدی بکل مزیل؛ لحصول المقصود وهو النظافة، وقال النووي: الأولی في حقه الحلق، وفي حقها: النتف، والإبط أولی فیه النتف؛ لورود الخبر"․

(حاشیة الطحطاوي علی المراقي، ص: ۵۲۷، کتاب الصلاة، باب الجمعة، ط: دار الکتاب)

وقال ابن عابدین:

"والسنة في عانة المرأة النتف، وقال قبیله عن الهندیة: ولو عالج بالنورة، یجوز"․

(رد المحتار: ۹/ ۵۸۳، کتاب الحظر والإباحة، باب الستبراء وغیره)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144210200101
تاریخ20-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں