بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک سال سے کم عمر تندرست بکرے کی قربانی کا حکم

سوال

بکری کی عمر ایک سال سے کم ہے اور یہ معلوم نہیں ہو سکتا ہے معلوم کرنا ممکن نہیں ہے تو کیا اس کی قربانی کرنا جائز ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ جب بکرے کی عمر ایک سال سے کم ہے تو اگرچہ صحت مند، موٹا تازہ ہونے کی وجہ سے اس کا ایک سال سے کم ہونا معلوم نہیں ہوتا تب بھی اس کی قربانی جائز نہیں ہے، کیوں کہ بکرے کی قربانی صحیح ہونے کے لئے ایک سال کا ہونا شرط ہے۔

فتاوی عالمگیری (الفتاوى الهندية ) میں ہے:

"فلا تجوز الشاة والمعز إلا عن واحد، وإن كانت عظيمة سمينة تساوي شاتين مما يجوز أن يضحي بهما،"

(کتاب الاضحیۃ، الباب الرابع فيما يتعلق بالمكان والزمان، ج:5، ص:297، ط:مکتبہ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144210200066
تاریخ20-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں