بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وتر کی نماز میں مقتدی کا تراویح کی نیت سے شامل ہونے کا حکم

سوال

امام صاحب نے  وتر کی نیت کی،  سب مقتدیوں  نے تراویح سمجھ کر تراویح کی نیت کی تو کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص  امام کے وتر شروع کرنے کے بعد   تراویح سمجھ کر اس کی اقتدا کرلے  تو اس کی وتر کی  نماز ادا نہیں ہو گی، بلکہ اس پر   وتر  کی قضا لازم ہوگی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولو صلى التراويح مقتديًا بمن يصلي مكتوبةً أو وترًا أو نافلةً، الأصح أنه لايصح الاقتداء به؛ لأنه مكروه مخالف لعمل السلف".

(الفتاوى الهندية ، (1/ 117)، فصل في التراويح، الباب التاسع في النوافل، كتاب الصلاة، الناشر: دار الفكر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209202347
تاریخ10-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں