بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صلاۃ التسبیح کا ثبوت

سوال

کیا صلوۃ التسبیح پڑھنا  کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے؟

جواب

صلاۃ التسبیح     احادیث سے ثابت ہے، بعض محدثین   نے ان احادیث کو صحیح  کہا ہے،  جیساکہ امام ابوعبداللہ حاکم رحمہ اللہ نےاسے "مستدرک" میں صحیح قرار دیا ہے، اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی تائید میں دیگر متابعات ذکر فرمائے ہیں، علامہ ذہبی کا سکوت بھی امام حاکم رحمہ اللہ کی تائید ہوتاہے، اس کے متابع روایت  لانے کا مطلب حدیث کو صحیح قرار دینا ہے، ورنہ کم از کم اس  کا مرتبہ حسن تو  ہے  ہی، اور یہ  روایات  اس نماز کے ثبوت کے لیے کافی ہیں۔

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کریں:

صلاۃ التسبیح

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209202335
تاریخ09-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں