بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کی حالت میں بینک سے پیسے نکالنے جانا

سوال

کیا اعتکاف کے دوران پیسے وصول کرنے کے لیے عورت بینک وغیرہ جاسکتی ہے؟

جواب

عورت کے اعتکاف کے لیے مختص کی گئی جگہ عورتوں کے حق میں ایسی ہے جیسے مردوں کے لیے مسجد ہے، عورت کے لیے مسنون یا واجب اعتکاف کی حالت میں طبعی اور شرعی ضرورت کے بغیر وہاں سے باہر نکلنا درست نہیں ہے۔

لہذا  عورت کے لیے اعتکاف کی حالت میں  بینک سے پیسے نکالنے کے لیے  جانا جائز نہیں ہوگا، اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا، اور اس کی ایک دن روزہ کے ساتھ قضا لازم ہوگی۔ ضرورت کے لیے کسی کے ذریعے سے بینک سے پیسے منگوائے  جاسکتے ہیں۔

الفتاوى الهندية (1/ 211):

"والمرأة تعتكف في مسجد بيتها، إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل، لاتخرج منه إلا لحاجة الإنسان، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي".  

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209202306
تاریخ09-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں