وتر کی جماعت چھوڑ کر انفرادی وتر ادا کرنا
سوال
ایک آ دمی وتر پڑھتا ہے حالاں کہ وتر کی جماعت ہو رہی ہے آ یا کہ اس کے الگ وتر کی نماز پڑھنا درست ہے یا غلط؟
جواب
رمضان المبارک میں وتر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا افضل ہے، اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کو رمضان المبارک میں باجماعت وتر ہی ادا کرنا چاہیے تھا، تاہم اگر اس نے انفرادی طور پر وتر پڑھ لی تب بھی نمازِوتر ادا ہو گئی ، اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔
مراقی الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 144):
"و يوتر بجماعة في رمضان فقط، و صلاتة مع الجماعة في رمضان أفضل من أدائه منفرداً آخر الليل في اختيار قاضيخان، قال: هو الصحيح."
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

