بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدہ تلاوت کے لیے نیت

سوال

سجدہ تلاوت کی  عربی میں نیت کیسے کریں؟

جواب

سجدہ تلاوت کے وقت اس طرح نیت  (دل میں ارادہ) کر لینا کافی ہو گا کہ میرے اوپر جو سجودِ تلاوت  واجب ہیں وہ سجدے ادا کر رہا ہوں، زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں، اور نہ ہی اس  کے لیے مخصوص الفاظ مشروع ہیں،  البتہ فقہاء نے لکھا ہے کہ جس شخص  کے لیے فوراً سجدۂ تلاوت کرنے میں عذر مانع ہو، اس کو  چاہیے کہ وہ یوں کہہ  لے:((سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَك رَبَّنَا وَإِلَيْك الْمَصِيرُ))۔ اور پھر جب موقع ملے تو وہ سجدے ادا کرلے۔

بہتر  یہ ہے کہ جس وقت آیتِ سجدہ کی تلاوت کی جائے اسی وقت سجدہ تلاوت ادا کرلیا جائے، اور اس فقہاءِ کرام نے کسی عذر کے بغیر سجدۂ  تلاوت کو مؤخر کرنے کو مکروہِ تنزیہی (نا پسندیدہ) قرار دیا ہے، البتہ اگر کسی وجہ سے آیتِ سجدہ  پڑھنے کے ساتھ  سجدہ تلاوت کرنا رہ جائے  اور کئی سجدے جمع ہوجائیں تو ایک ساتھ متعدد  سجدہ تلاوت  کرنا بھی درست ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"[فرع] في التتارخانية: يستحب للتالي أو السامع إذا لم يمكنه السجود أن يقول: سمعنا و أطعنا غفرانك ربنا و إليك المصير."

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 109)، باب سجود التلاوة، ط: سعید)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209202135
تاریخ08-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں