بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹرسٹ منظم کے لیے ٹرسٹ کے کاموں میں کمیشن حاصل کرنا

سوال

میں  ایک  رفاہی  ٹرسٹ  کا  منتظم  ہوں غرباء  کے درمیان  راشن کٹس  وغیرہ  کی تقسیم کرتا ہون، جس دکان سے راشن  کٹس  بنواتا ہوں اس سے کہا ہے کہ میں تمام کٹس تمہاری  دکان سے بنواتا ہوں، اس میں تمہارا بہت فائدہ ہے؛  لہذا تم  مجھے بھی منافع کا کچھ حصہ دو،  کیا میرے لیے منافع لینا درست ہے،  جب کہ راشن کٹس کی خریداری زکوۃ  صدقات کی  رقم  سے ہوتی ہے؟  کیا اس دکاندار سے منافع لینا میرے لیے درست ہے یا اگر میرے لیے درست نہیں ہے تو میں اس سے منافع حاصل کرکے ٹرسٹ  کی رقم میں شامل کروں،  کیا یہ صورت جائز ہوگی؟

جواب

آپ کے  لیے منافع لینا درست نہیں، البتہ  اگر  دکان دار نے  منافع دیا تو وہ  ٹرسٹ  کی رقم میں  شامل کرلیجیے۔  (امدادالاحکام: کتاب الوکالةوالکفالة  (4 /144)،ط۔ مکتبہ دار العلوم کراچی)

نیز آئندہ  دکان دار سے منافع یا کمیشن کے عنوان سے معاملہ کرنے کے بجائے ڈسکاؤنٹ  کے عنوان سے  قیمت کم کروالیا کریں،  مثلًا:  جو پیکج وہ پانچ ہزار  میں دیتا ہے اسے قیمت کم کرواکر ساڑھے چار ہزار میں بنوالیں، یہی بچت ٹرسٹ کا فائدہ ہوگا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209202066
تاریخ06-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں