بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ پر زکاۃ نہیں ہوتی

سوال

میں نے اپنے سونے کے زیورات اپنی نابالغ بیٹی کو ہدیہ (گفٹ)کردیے ہیں جو کہ اب اُس کے والد کے قبضے میں ہیں تو اب اُس کی زکاۃ اُس کے والد کے ذمے  ہے ؟ اگر زیور سات تولے سے کم ہوں تو بھی زکاۃ دینی ہوگی ؟

جواب

اگر آپ نے سونے کے زیورات اپنی نابالغ بچی کی ملکیت میں دے دیے ہیں  تو بچی کے نابالغ ہونے کی وجہ سے اُس پر زکاۃ واجب نہیں ہے، بچی کے بالغ ہونے کے بعد اگر وہ صاحبِ نصاب ہوئی  تو اُس پر سال گزرنے کے بعد ایک سال کی زکاۃ واجب ہوگی۔

واضح رہے کہ ملکیت میں دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اگر سمجھ دار ہے تو اُس کے حوالے کردینا اور اگر ناسمجھ ہے تو اُس کے سرپرست کے حوالے کرناجیسا کہ آپ نے اُس کے والد کے حوالے کردیا ہے۔ 

یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اگر کسی مکلف شخص کی ملکیت میں صرف سونا ہو، اس کے علاوہ نقد رقم، چاندی یا مالِ تجارت کچھ بھی نہ ہو تو زکات کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے، اور اگر سونے کے ساتھ بنیادی ضرورت سے زائد کچھ نقدی یا چاندی یا مالِ تجارت بھی ہے تو پھر اگر مجموعے کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچ جائے تو وہ صاحبِ نصاب شمار ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209202049
تاریخ06-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں