بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قطرہ سے روزہ ٹوٹنے کا حکم

سوال

قطرہ سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں ؟

جواب

آپ کا سوال واضح نہیں ہے کہ قطرے سے کیا مراد ہے؟

اگر قطروں سے مراد پیشاب کے قطرے ہیں تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے اور اگر قطروں سے مراد شہوت کی وجہ سے مذی کے قطرے ہیں تو  اس سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ اور اگر قطروں سے مراد منی کا انزال ہے تو اگر انزال سوتے وقت احتلام کی وجہ سے ہوا ہو یا جاگتے ہوئے اپنے عمل کے بغیر خود سے منی خارج ہوگئی تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، لیکن اگر جاگتے ہوئے اپنے عمل (مثلًا بیوی کو چھونے وغیرہ) سے انزال ہوگیا (یعنی منی خارج ہوگئی) تو روزہ  فاسد ہوجائے گا اور قضا لازم ہوگی، نیز اس صورت میں استغفار بھی لازم ہوگا، کیوں کہ یہ گناہ کا کام ہے۔ 

نوٹ : قصداً برے خیالات سوچنا جس کی وجہ سے مذی کے قطرے نکلتے ہیں گناہ ہے، جس سے روزہ کی کامل برکات نصیب نہیں ہوں گی۔

اگر آپ کے سوال کا مقصد روزے کی حالت میں آنکھ ، کان یا ناک وغیرہ میں دوا کے قطرے ڈالنے کا حکم دریافت کرنا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ روزے کی حالت میں آنکھ میں دوا کے قطرے ڈالنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، لیکن روزے کی حالت میں کان یا ناک میں دوا کے قطرے ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا لازم ہوتی ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209202041
تاریخ06-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں