بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق سے متعلق سوال کرنے سے طلاق کا حکم

سوال

ایک دوست کی اپنی بیوی سے لڑائی ہوگئی،  ان کی بچی کو لڑکی کا چچا اپنے گھر لے گیا۔  میں نے دوست سے پوچھا طلاق ہوگئی ہے؟ میرا مقصد اس سے پوچھنا تھا کہ اس کی طلاق ہوگئی ؟ لفظ "طلاق ہوگئی ہے" بولنے سے کہیں میری تو طلاق واقع نہ ہوئی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنے دوست سے اس کی بیوی کی طلاق سے متعلق سوال کرنے سے سائل کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 250):

"(قوله: أو لم ينو شيئًا) لما مر أن الصريح لايحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاءً و ديانةً من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201988
تاریخ05-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں