بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام سورہ علق پڑھ کر سجدہ تلاوت کب کرے؟

سوال

امام سورہ علق پڑھ  کر سجدہ تلاوت کب کرے؟

جواب

امام سورہ علق کی آخری آیت  پڑھ کر فورًا سجدہ کرے، سجدے  کے فورًا  بعد  کھڑاہوجائے،مستحب ہے کہ رکوع فورًا  نہ کرے،  بلکہ   سورة القدر سے كم از كم دو ، تين آیتیں پڑھ کر پھر رکوع کرے،  بلکہ بہتر ہے کہ پوری سورۂ قدر پڑھ کر پھر رکوع کرے، اور اگر سجدۂ تلاوت سے کھڑا ہونے کے بعد فورًا رکوع کرلیا، تو  بھی حرج نہیں،    نماز صحیح  ہوجائے گی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإذا سجد وركع لها على حدة على الفور يعود إلى القيام و يستحب أن لايعقبه بالركوع بل يقرأ آيتين أو ثلاث آيات ثم يركع، كذا في شرح منية المصلي لابن أمير الحاج."

(الفتاوى الهندية: كتاب الصلاة، الباب الثالث عشر في سجود التلاوة (1/ 133)،ط. رشيديه)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الحلية: ثم إذا سجد أو ركع لها على حدة فورًا يعود إلى القيام، ويستحب أن لايعقبه بالركوع بل يقرأ آيتين أو ثلاثًا فصاعدًا ثم يركع اهـ وإن كانت السجدة آخر السورة يقرأ من سورة أخرى ثم يركع، وتمامه في الإمداد والبحر."

(حاشية ابن عابدين على الدر المختار: كتاب الصلاة،  باب سجود  التلاوة (2/ 111)،ط. سعيد)

فقط، واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201983
تاریخ05-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں