بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حلال کمائی سے ادا کی گئی زکات ادا ہوگی

سوال

میری تنخواہ کرنٹ اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے اور میں اپنی زکات تنخواہ سے ہی ادا کرتی ہوں جب کہ میرے گھر کی سربراہ سیونگ اکاؤنٹ سے حاصل شدہ انٹرسٹ سے گھر کے اخراجات چلاتی ہیں ،مطلب یہ کہ ہمارے کھانے پینے خوراک کے تمام اخراجات انٹرسٹ سے پورے ہوتے ہیں،  ایسی صورت میں کیا میری زکات  جو کہ بغیر منافع کے حلال کمائی سے دی جاتی ہے ادا  ہوجائے گی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں آپ  کی زکات  ادا  ہوجائے گی،  لیکن آپ کو  چاہیے کہ اپنے اخراجات حلال کمائی سے چلائیں،  حرام  سے  اجتناب  لازم  ہے، نیز  گھر  کی سربراہ کو بھی حکمت و بصیرت سے سمجھائیں کہ وہ سودی لین دین سے اجتناب کریں۔ فقط، واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201966
تاریخ05-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں