بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماسک پہن کر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

سوال

ماسک پہن کر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

عام حالات میں بلا عذر  ناک اور منہ پر کوئی  کپڑے وغیرہ  لپیٹ کر نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے نماز میں چہرہ کو ڈھانپا جائے یا ماسک پہنا جائے تو   نماز بلا کراہت  درست ہو گی،   لہذا کرونا وائرس کی وبا کے دنوں میں مسلمان دین دار، تجربہ کا ر ڈاکٹروں کے مشوروں کے مطابق اگر اس پر عمل کیا جائے تو نماز کراہت کے بغیر ادا  ہوجائے  گی۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"يكره اشتمال الصماء والاعتجار والتلثم والتنخم."

(وفي رد المحتار) :

"قوله: (والتلثم) وهو تغطية الأنف والفم في الصلاة؛ لأنه يشبه فعل المجوس حال عبادتهم النيران زيلعي. ونقل ط عن أبي السعود أنها تحريمية."

(الدر المختار مع رد المحتار: كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها (1/ 652)،ط. سعيد، كراتشي)

فقط، والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201957
تاریخ05-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں