بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام نے کچھ تکبیرات سرًا کہہ دیں تو نماز کا حکم

سوال

امام نےنماز میں ایک یا دو رکن میں جہر سے تکبیر کہنے کے بجائے سرًّا تکبیر کہہ دی  جب کہ مقتدی نے دیکھ کر  اقتدا کرلی ،  پھر باقی تکبیر امام نے بلند آواز سے کہی اور نماز پوری کی۔  اب اس معاملے میں کیا حکم ہے؟

جواب

امام کا باجماعت نماز میں تکبیر تحریمہ اور دیگر تکبیرات اتنی بلندآواز سے کہنا سنت ہے کہ مقتدی سن سکیں۔ تکبیرات کا حد سے زیادہ ہلکی آواز سے کہنا سنت کے خلاف ہے، اس لیے عادت اور ضرورت کے مطابق آواز رکھنی چاہیے۔

 لہٰذا اگر امام کی آواز مقتدی نہیں سُن سکے، بلکہ امام کی حرکت کے ذریعہ اقتدا کرلی  تو نماز ہوجائے گی، سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔  فقط  والله  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201942
تاریخ05-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں