بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کاروبار میں لگائی گئی رقم پر زکاۃ کا حکم

سوال

ہم نے ایک لاکھ بزنس میں لگائےہیں جو کہ   ہمارے پاس نہیں ہیں تو کیا  ان پیسوں کی زکاۃ  دے سکتے ہیں ؟

جواب

کاروبار  میں رقم لگانے سے مراد اگر یہ ہے کہ اُس ایک  لاکھ  کا مال لیا ہوا ہے  (مثلًا جس کے پاس رقم لگائی ہے  اس نے اس رقم سے بیچنے کے لیے سامان  لیا ہے) تو  یہ مالِ تجارت ہوگیا اور مالِ تجارت کی زکاۃ لازم ہوتی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 272):

"(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل".

اور اگر اس کے علاوہ کچھ اور  مراد  ہے تو اُس کی وضاحت فرماکر دوبارہ سوال بھیج دیں ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201940
تاریخ05-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں