بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے منبر ومحراب میں اللہ، محمد لکھنے کا حکم

سوال

مسجد کے منبر و محراب میں اللہ محمد وغیرہ لکھنا کیسا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ مسجد کے منبر ومحراب میں اللہ ، محمد  یا دیگرکلمات لکھنا  بے ادبی کے پیشِ نظر  (کیوں کہ مسجد کی دیوار، محراب کے گرنے سے یا پلستر اکھڑنے سے مذکورہ کلماتِ مقدسہ کی بےادبی ہے، اسی طرح نمازیوں کے اس کلمات پر نظر پڑنے سے خیال منتشر ہونے کی وجہ سے خشوع وخضوع ختم ہونے کا اندیشہ ہے)  پسندیدہ نہیں ہے،  تاہم اگر کہیں مذکورہ خرابیاں نہ پائی جائیں  تو "اللہ" اور "محمد" یا دیگر کلمات  (آیاتِ قرآنی وغیرہ)  لکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

"تكره كتابة القرآن وأسماء الله - تعالى - على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش، وما ذاك إلا لاحترامه، وخشية وطئه ونحوه مما فيه إهانة فالمنع هنا بالأولى ما لم يثبت عن المجتهد أو ينقل فيه حديث ثابت فتأمل، نعم نقل بعض المحشين عن فوائد الشرجي أن مما يكتب على جبهة الميت بغير مداد بالأصبع المسبحة - بسم الله الرحمن الرحيم - وعلى الصدر لا إله إلا الله محمد رسول الله، وذلك بعد الغسل قبل التكفين اهـ والله أعلم."

(کتاب الصلوۃ، ج:2، ص:247، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201858
تاریخ04-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں