بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان کی تئیسویں شب کو مٹھائیاں تقسیم کرنے کا حکم

سوال

تئیس رمضان المبارک کو لوگ مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ رمضان المبارک کی تئیسویں رات کو مٹھائی وغیرہ مسجد میں تقسیم کرنا یا اس طرح کا کوئی اور خیرات کرنا، اور اس کو لازم سمجھنا قرآن، سنت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین، تابعین و ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ  سے ثابت نہیں ہے، چناں چہ اسے نیک کام سمجھ کر اس کا التزام کرنا بدعت ہے اور اس کو ترک کرنا واجب ہے،فی نفسہ خیرات وغیرہ کرنا مذموم نہیں ہے،  بلکہ ممدوح ہے، لیکن دن  کی تخصیص کے ساتھ  اس کا التزام کرنا بدعت اور  واجب  الترک ہے۔

حدیث شریف میں ہے:
"قال رسول اللہ ﷺ  وشر الأمور محدثاتھا وكل بدعة ضلالة."

(مسند احمد بن حنبل،رقم الحدیث: 14386، ج:3، ص:310، ط: دار الكتب العلمية)

معارف السنن شرح سنن الترمذی  میں ہے:

"اتفق الخطابی والطرطوشی والقاضی عیاض علی المنع، وقولهم أولیٰ بالاتباع حیث أصبح مثل تلك المسامحات والتعللات مثاراً للبدع المنکرۃ والفتن السائرۃ الخ"

( کتاب الطهارۃ ، باب التشدید فی البول، ج:، ص:265، ط:ايج ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201853
تاریخ04-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں