جمعہ کے علاوہ نیا لباس پہننے کی صورت میں حساب کتاب کا حکم
سوال
اگر ہم جمعہ کا علاوہ کسی اور دن نیا لباس پہنیں تو اس کا حساب ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ احادیث میں یہ بات نہیں مل سکی جس میں یہ صراحت ہو کہ جمعہ کے دن نیا لباس پہننے کی صورت میں حساب کتاب نہیں ہوگا، اور جمعہ کے علاوہ پہننے کی صورت میں حساب کتاب ہوگا۔ حساب کتاب کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور حساب کتاب ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ احادیث یا قرآن کے ذریعہ ہی ہوسکتا ہے، اس کے بغیر نہیں ہوسکتا۔
البتہ رسول اللہ ﷺ سے یہ منقول ہے کہ جب نیا لباس پہنتے تھے تو عمومًا جمعہ کے دن پہنتے تھے؛ لہذا اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
سبل الهدیٰ والرشاد میں ہے:
"عن أنس رضي اللّٰه عنه قال: کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم إذا استجد ثوبًا لبسه یوم الجمعة."
( جماع أبواب سیرته ﷺ في لباسه ج نمبر ۷ ص نمبر ۲۶۹،دار الکتب العلمیہ)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

