بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف میں احتلام کی صورت میں کپڑے کے نجاست والے حصہ کو دھوکر دوبارہ پہننا

سوال

اعتکاف کے دوران اگر احتلام ہو جائے اور کپڑے جو پہنے ہوں  اس کے علاوہ میسر نہ  ہوں تو کیا وہ متعلقہ  جگہ  جہاں نجس لگی ہو  اسے دھو کر پاک کر کے دوبارہ پہن سکتا ہے؟ اور اس کپڑے میں نماز ہو سکتی ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں احتلام کی صورت میں  جس جگہ نجاست لگی ہو اس جگہ کو تین مرتبہ اس طور پر دھو لیا جائے کہ ہر مرتبہ پانی ڈالنے کے بعد اچھی طرح نچوڑ لیا جائے، تو کپڑا پاک ہوجائے گا، پورے کپڑے کو دھونا ضروری نہیں ہے، اور اس نجاست والی جگہ کو پاک کرکے دوبارہ وہ کپڑا پہننا اور اس میں نماز پڑھنا جائز ہے۔

امداد الاحکام میں ہے :

’’احتلام ہونے پر تمام کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، بلکہ جس کپڑے پر جتنی دور تک منی کا اثر معلوم ہو، وہ کپڑا اسی قدر ناپاک ہوتا ہے، باقی سب پاک ہیں‘‘۔

(ج۱ / ص۳۹۳، مکتبہ دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201788
تاریخ04-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں