بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیکس سے بچنے کے لیے 50 ہزار کے سامان کا بل 70 ہزار لکھنا / لکھوانا

سوال

زید دکاندار ہے، سرکاری دفتر والے اس سے دفتر کے لیے پچاس ہزار روپے کا سامان خریدنے آتے ہیں اور اس سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ستر ہزار روپے کا بل بنا کر دیں۔ وجہ وہ اس کی یہ بتاتے ہیں کہ جب اکاؤنٹ آفس سے یہ بل کیش کروایا جائے گا تو اکاؤنٹ آفس والے ٹیکسز کی مد میں بیس ہزار روپے کاٹ کر تیس ہزار روپے ہمیں ادا کرتے ہیں؛  لہذا ہم اس نقصان سے بچنے کے لیے ستر ہزار کا بل بنواتے ہیں؛ تاکہ اکاؤنٹ آفس سے ہمیں پوری رقم پچاس ہزار روپے وصول ہو۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا زید کے لیے جائز ہے کہ وہ پچاس ہزار روپے وصول کر کے ستر ہزار روپے کا بل بنائے؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں زید کے لیے 50 ہزار روپے کے سامان کے لیے 70 ہزار روپے کا بل بنانا جائز نہیں ہے، یہ جھوٹ اور دھوکا ہے۔ 

زید کے جن خریداروں کو ٹیکس سے بچنا مطلوب ہے، انہیں چاہیے کہ متعلقہ شعبے سے رابطہ کرکے یہ ٹیکس ہٹوائیں۔ اگر یہ بات ان کے بس میں نہ ہو اور ٹیکس ظالمانہ ہو تو اس سے بچنے کی جائز تدبیر تو  اختیار کی جاسکتی ہے، جھوٹ اور دھوکے کا راستہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201776
تاریخ04-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں