بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

واٹس ایپ پر تصویر لگانے کا حکم

سوال

واٹس ایپ پر سٹیٹس یاکوئی تصویر لگانا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ  کی رو سے کسی بھی جان دار کی تصویر  بنانا،  دیکھنا اور دکھانا سب ناجائز ہے،  حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے دربار  میں سب سے زیادہ  سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا،  ایک اور حدیث میں ہے کہ جس گھر میں کسی جان دار کی تصویر ہو، وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے؛  اس لیے وا ٹس ایپ اکاؤنٹ کی پروفائل میں کسی بھی جان دار کی تصویر لگاناخواہ وہ شناخت کی غرض سے ہو ، از رو ے شرع ناجائز ہے۔

حدیث شریف میں  ہے:

"عن أبي طلحة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تدخل الملائكة بيتاً فيه صورة»".

 (صحيح البخاري: كتاب بدء الخلق، رقم الحدیث:3226،  ص: 385، ط: دار ابن الجوزي)

"عن عبد الله، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن أشد الناس عذاباً عند الله يوم القيامة المصورون»".

(صحيح البخاري: كتاب اللباس، باب عذاب المصورين، رقم:5950،  ص: 463، ط: دار ابن الجوزي)

فتاوی شامی میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ".

 ( كتاب الصلاة، مطلب: مكروهات الصلاة، ج:1، ص:647، ط:ایچ ایم سعید )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201745
تاریخ04-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں