بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اموالِ زکوۃ اور اس کا نصاب

سوال

زکوۃکس کس مال پرفرض ہے؟

جواب

زکوۃ صرف اس مال پر فرض ہے جو عادۃً بڑھتا ہے، جیسے مویشی، سونا، چاندی، مالِ تجارت اور نقدی، اور پھر ان میں سے ہر ایک کا اپنا نصاب مقرر ہے،مثلاً مویشیوں میں سے عام چرنے والے اونٹوں کا نصاب پانچ اونٹ  ہے، اور عام چرنے والی بکریوں کا نصاب چالیس بکریاں ہے، اورعام چرنے والے گائے کا نصاب تیس گائے  ہے، اور سونے کا نصاب  ساڑھے سات (7.5) تولہ سونا ہے، اور چاندی کا نصاب  ساڑھے باون (52.5) تولہ چاندی ہے،  روپیہ پیسہ اور مال تجارت کا نصاب  ان چیزوں کا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہونا ہے ، ان چیزوں کے علاوہ ذاتی مکان، دوکان، برتن، فرنیچر، اور دوسرے گھریلوں سامان ، ملوں اور کارخانوں کی مشینری، جواہرات  وغیرہ (جب کہ تجارت کے لیے نہ ہوں) پر زکوۃ  فرض نہیں ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ زکات،  درج ذیل اموال میں متعلقہ شرائط اور تفصیل کے مطابق واجب ہوتی ہے:

1- مویشی۔

2- سونا۔

3- چاندی۔

4- نقدی اور اس کے حکم میں جو مالی دستاویزات ہوں۔

5- مالِ تجارت اور شیئرز وغیرہ۔

المبسوط للسرخسي میں ہے:

"وسبب الوجوب ما جعله الشرع سببا وهو المال قال الله تعالى {خذ من أموالهم صدقة} [التوبة: 103] ولهذا يضاف الواجب إليه فيقال زكاة المال والواجبات تضاف إلى أسبابها، ولكن المال سبب باعتبار غنى المالك «، قال النبي صلى الله عليه وسلم لمعاذ - رضي الله عنه - أعلمهم أن الله تعالى فرض عليهم صدقة تؤخذ من أغنيائهم وترد في فقرائهم». والغنى لا يحصل إلا بمال مقدر وذلك هو النصاب الثابت ببيان صاحب الشرع والنصاب إنما يكون سببا باعتبار صفة النماء، فإن الواجب جزء من فضل المال قال الله تعالى {ويسألونك ماذا ينفقون قل العفو} [البقرة: 219] أي الفضل فصار السبب النصاب النامي ولهذا يضاف إلى النصاب وإلى السائمة يقال زكاة السائمة وزكاة التجارة والدليل عليه أن الواجب يتضاعف بتضاعف النصاب فإن قيل: الزكاة تتكرر في النصاب الواحد بتكرر الحول ثم الحول شرط وليس بسبب قلنا التكرر باعتبار تجدد النمو، فإن النماء لايحصل إلا بالمدة فقدر ذلك الشرع بالحول تيسيرا على الناس فيتكرر الحول بتجدد معنى النمو ويتجدد وجوب الزكاة باعتبار تجدد السبب." 

(كتاب الزكوة، ج:2، ص:149، ط:ادارة القرآن)

فقط والله  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209201718
تاریخ03-05-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں